Tere Firaaq k lamhe shumar karte hoye,
Bikhar gaye hain Tera Intizaar karte hoye

To Mai b Khush hoon koi us se ja k keh de,
Agar wo Khush hai Mujhe Be-Qarar karte hoye

Mai Muskurata hua Aaine mai ubhrunga,
Wo Ro parega Achanak Singhaar karte hoye

Tujhe Khabar hi nahi Toot gaya hai koi,
Mohabbat ko boht Paaidar karte hoye

Wo Keh rahi thi Samandar nahin hai Aankhon mai,
Mai un mai Doob gaya Aitbaar karte hoye


سحر کے خواب کا مجھ پر اثر کچھ دیر رہنے دو
کسی کے حال کی مجھ کو خبر کچھ دیر رہنے دو

جڑے ہیں ان سے نادیدہ پرانے بام و دروازے
نئے شہروں میں یہ ویران گھر کچھ دیر رہنے دو

کہیں گزرے ہوئے ایام پھر واپس نہ آجائیں
دل بے خوف میں اس کا خطر کچھ دیر رہنے دو

صبا کس رنگ سے باغوں میں چلتی سیر کرتی ہے
اسے اس اپنی دھن میں بے خبر کچھ دیر رہنے دو


منیر اس عالم روشن میں رہنا اور خوش رہنا
ابھی اس دن سے آگے کا سفر کچھ دیر رہنے دو



مجھے آج بھی یاد ہے وہ سردیوں‌کی شام، جب اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا
" آپ کے ہاتھ بہت گرم ہیں اور یہ وفا نبھانے والوں کی نشانی ہے۔ "
میں بہت خوش تھا، اتنا خوش کہ یہ بھی بھول گیا کہ اُس شام اُس کے ہاتھ کتنے سرد تھے
!!!....محبت اب نہی ہو گی